6 جولائی 2026 - 20:09
10 کلومیٹر طویل سڑک، سراسر سوگ، سراسر انتقام کا مطالبہ، فنانشل ٹائمز + ویڈیو

ایک برطانوی اخبار نے تہران سے اطلاع دی ہے کہ پیر کے روز ایران کے رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں کروڑوں ایرانیوں نے شرکت کی۔ مراسمات کا راستہ دارالحکومت تہران میں واقع ایک سڑک سے گذرتا تھا جو 10 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے، اور یہ راستہ مکمل طور پر عزاداروں سے بھرا ہؤا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" بھی دیگر مغربی میڈیا اداروں کی طرح ایران کے ـ کروڑوں انسانوں کی موجودگی میں ـ آقائے شہید، رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے شاندار انعقاد پر حیرت زدہ ہؤا اور اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ تہران میں آج کی وداعی رسم، ایران کی ملکی خودمختاری کے لئے عوامی حمایت کے سب سے بڑے مظاہروں کی انتہا قرار دیا گیا۔

Iran leadership shows unity at Ayatollah Ali Khamenei's funeral, but  successor absent

برطانوی اخبار نے اس واقعے کو منعکس کرتے ہوئے لکھا: پیر کے روز ایران کے شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں کروڑوں ایرانیوں نے شرکت کی؛ ایک ایسا واقعہ جو ایران کی معاصر تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عزاداروں کی پرجوش موجودگی نے تہران میں آج کے جنازے کو جدید تاریخ کی سب سے بڑی تشییع بنا دیا ہے۔

10 کلومیٹر طویل سڑک، سراسر سوگ، سراسر انتقام کا مطالبہ، فنانشل ٹائمز + ویڈیو

فنانشل ٹائمز نے رہبر معظم کے جنازے میں شرکت کرنے والے ایرانی سوگواروں کے جذبات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہت سے سوگوار رو رہے تھے یا سینہ زنی کر رہے تھے اور انہوں نے شہید رہنما اور ان کے شہید اہل خانہ کو لے جانے والی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا تھا اور لوگ کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ہجوم کی وجہ سے راستہ کئی بار بند ہو گیا اور گاڑی کو رکنا پڑا۔

اخبار نے مزید لکھا کہ جنازے کا راستہ 10 کلومیٹر سے زیادہ طویل تھا اور شہر کے مشرق میں خیابانِ دماوند سے شروع ہؤا اور امام حسین(ع) اسکوائر، انقلاب اسکوائر اور آزادی اسکوائر سے ہوتا ہؤا جاری رہا۔

اخبار نے بھی بہت سے دوسرے ذرائع ابلاغ کی طرح، ان سرخ جھنڈوں کی طرف اشارہ کیا جو عزاداروں نے اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے تھے، اور لکھا کہ ہجوم نے سرخ مذہبی جھنڈے اٹھا رکھے ہیں، جو خونخواہی اور قصاص و انتقام کی علامت ہیں۔

10 کلومیٹر طویل سڑک، سراسر سوگ، سراسر انتقام کا مطالبہ، فنانشل ٹائمز + ویڈیو

اخبار نے لکھا:

"عزاداروں نے امام حسین(ع) اسکوائر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پتلا علامتی طور پر پھانسی پر لٹکایا۔"

تشییع جنازہ سے اس اخبار کی کوریج کے مطابق، عزاداروں نے اپنے سروں کے اوپر ایک لمبا سرخ بینر اٹھا رکھا تھا جس پر فارسی اور انگریزی میں لکھا تھا:

"ہم ٹرمپ کو مار ڈالیں گے"۔

اخبار کے مطابق، کچھ نے "مرگ بر امریکہ" اور "مرگ بر اسرائیل" کے نعرے لگا رہے تھے۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا: تہران کے آزادی اسکوائر کے قریب ریلی میں شریک ایک 60 سالہ خاتون 'تہمینہ' نے کہا، "میں شہید رہنما سے وداع کرنے اور یہ کہنے کے لئے یہاں آئی ہوں کہ ان کا مشن جاری رہنا چاہئے؛ ہم نے اس جنگ میں ہزاروں شہیدوں کا نذرانہ دیا ہے۔ چنانچہ

"ایران کو اس خطے میں اپنی طاقت کا زبردست مظاہرہ کرنا چاہئے۔"

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق "آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے ایرانیوں کے اتحاد میں اضافہ ہؤا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha